بنگلورو،25؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی کابینہ میں توسیع اور دو وزراء کی برطرفی کے بعد کانگریس پارٹی میں شروع ہونے والی برگشتگی کو قابو میں کرنے کے لئے سابق وزیراعلیٰ سدرامیا خود میدان میں اتر گئے ہیں۔ ایک طرف ریاستی وزارت سے برطرف رمیش جارکی ہولی کی طرف سے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی دھمکی تو دوسری طرف وزارت سے محروم سینئر کانگریس قائدین کے پارٹی قیادت کے خلاف بیانات ، یہ پارٹی کے لئے پیشمانی کا سبب بن گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کابینہ میں شامل ہونے والے آٹھ وزراء کے قلمدانوں کی تقسیم بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ہر وزیر یہی چاہتا ہے کہ اسے کوئی طاقتو ر اور وسائل سے مالا مال قلمدان دیا جائے۔ جبکہ کابینہ میں پچھلے چھ ماہ سے کام کرنے والے وزراء ان قلمدانوں پر پہلے ہی سے قابض ہیں۔ قلمدانوں کے لئے اس رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے ریاستی قیادت کو ہدایت دی گئی ہے کہ جن سینئر وزیروں کے پاس دو دو قلمدان ہیں ان سے ایک قلمدان واپس لے کر نئے وزراء میں تقسیم کیا جائے۔ خاص طور پر نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور ، وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار ، وزیر دیہی ترقیات کرشنا بائرے گوڈا، وزیر شہری ترقیات وہاؤزنگ یوٹی قادر، وزیر خوراک و شہری رسد ضمیر احمد خان ، وزیر برائے صنعت آئی ٹی بی ٹی ، سائنس وٹیکنالوجی کے جے جارج وغیرہ سے افزود قلمدان واپس لے کر انہیں نئے وزراء میں تقسیم کئے جائیں گے۔اے آئی سی سی جنرل سکریٹری وینو گوپال نے اس سلسلے میں ریاستی کانگریس قائدین کو واضح ہدایات جاری کردی ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ موجودہ وزراء کے اہم قلمدانوں کو متاثر کئے بغیر نئے وزراء کو بھی ان کے افزود قلمدان دئے جائیں اور قلمدانوں کی تقسیم میں کسی طرح کا امتیاز نہ برتا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال بنگلور پہنچ چکے ہیں اور ریاستی قائدین سے ایک اور دور کی بات چیت کے بعد کل نئے وزراء کے قلمدانوں کے متعلق کے پی سی سی کی طرف سے سفارش وزیر اعلیٰ کمار سوامی کے سپرد کی جائے گی اور اس کے مطابق کمار سوامی کی طرف سے قلمدانوں کی فہرست گورنر کو روانہ کی جاسکتی ہے۔ سدرامیا کے علاوہ کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ ، کارگزار صدر ایشور کھنڈرے ، نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور اور دیگر قائدین کے ساتھ وینو گوپال نے آج شام کابینہ میں توسیع اور نئے قلمدانوں کی تقسیم کے موضوع پر تفصیلی بات چیت کی ۔ اس کے علاوہ سدرامیا اور وینو گوپال وزارت سے محروم برگشتہ اراکین سے بھی تبادلۂ خیال کریں گے اور انہیں آنے والے دنوں میں حکومت یا پارٹی میں مناسب مقام اور مرتبہ دینے کا وعدہ بھی کریں گے۔ خاص طور پر سینئر اراکین اسمبلی شامنور شیوشنکرپا ، رام لنگا ریڈی اور ڈاکٹر سدھاکر سے سدرامیا بات چیت کریں گے ، جبکہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفے کی دھمکی دینے والے رمیش جارکی ہولی سے سدرامیا کی بات چیت کے دوران کے سی وینو گوپال بھی موجود رہیں گے۔ کہاجارہا ہے کہ انہیں پارٹی اعلیٰ کمان کی طرف سے اے آئی سی سی جنرل سکریٹری بنائے جانے کی پیش کش کی جائے گی، سدرامیا نے یقین ظاہر کیا ہے کہ قومی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کا جو موقع رمیش جارکی ہولی کو دیا جارہا ہے اسے وہ منظور کرلیں گے۔